- فارسی 1
- نامه رهبر انقلاب اسلامی به عموم جوانان در کشورهای غربی 1
- إلی کل الشباب فی البلدان الغربیه 3
- العربیه 3
- اردو 5
- مغربی ملکوں کے نوجوانوں کے نام خط؛ ناگوار واقعات سے سبق لیکر اچھے مستقبل کی تعمیر کی دعوت 5
- Today terrorism is our common worry 7
- English 7
- La seconde lettre du Guide Suprême aux jeunes d Europe 11
- Français 11
- Türkçe 13
- İslam İnkılabı Rehberi’nin Batılı Gençlere İkinci Mektubu 13
- Barua ya Kiongozi Muadhamu wa Mapinduzi ya Kiislamu kwa Vijana Wote wa Nchi za Magharibi 15
- swahili 15
- Письмо великого лидера Исламской революции молодежи западных государств 18
- Русский 18
اردو
مغربی ملکوں کے نوجوانوں کے نام خط؛ ناگوار واقعات سے سبق لیکر اچھے مستقبل کی تعمیر کی دعوت
آپ نے اسرائیل کی سرکاری دہشت گردی کی پشت پناہی اور عالم اسلام پر حالیہ برسوں میں کی جانے والی تباہ کن لشکر کشی کا حوالہ دیتے ہوئے مغربی نوجوانوں کو مخاطب کرکے فرمایا کہ میں آپ نوجوانوں سے چاہتا ہوں کہ صحیح شناخت اور گہرے تدبر کے ساتھ اور ناگوار تجربات سے سبق لیتے ہوئے عالم اسلام کے ساتھ باعزت اور صحیح رشتوں کی بنیاد رکھئے۔ رہبر انقلاب اسلامی کے خط کا اردو ترجمہ ملاحظہ فرمائیے؛
بِسْمِ ٱللَّ_هِ ٱلرَّحْمَ_نِ ٱلرَّحِیمِ
مغربی ملکوں کے تمام نوجوانوں کے نام
اندھی دہشت گردی نے فرانس میں جو تلخ سانحے رقم کئے، ان سانحوں نے مجھے ایک بار پھر آپ نوجوانوں سے گفتگو پر مجبور کر دیا۔ میرے لئے یہ افسوس کا مقام ہے کہ گفتگو
کی وجہ اس طرح کے واقعات بنیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ اگر دردناک مسائل، چارہ جوئی کی زمین اور ہم خیالی کا میدان فراہم نہ کریں تو دگنا نقصان ہوگا۔ دنیا میں کسی بھی جگہ پر کسی بھی انسان کا رنج و الم اپنے آپ میں تمام نوع انسانی کے لئے اندوہناک ہوتا ہے۔ وہ منظر کہ بچہ اپنے عزیزوں کے سامنے دم توڑ دیتا ہے، ایک ماں جس کے خاندان کی خوشی سوگ میں تبدیل ہو جاتی ہے، ایک شوہر اپنی بیوی کا بے جان جسم اٹھائے کسی سمت بھاگ رہا ہے، یا وہ تماشائی کہ جسے نہیں معلوم کہ چند لمحے بعد اپنی زندگی کا آخری سین دیکھنے جا رہا ہے۔ یہ ایسے مناظر نہیں ہیں جو دیکھنے والے کے احساسات و جذبات کو جھنجھوڑ نہ دیں۔ جس کے اندر بھی محبت و انسانیت کی کوئی رمق ہے، یہ مناظر دیکھ کر متاثر اور رنجیدہ ہوگا؛ خواہ وہ فرانس میں رونما ہوں یا فلسطین و عراق و لبنان و شام میں۔ یقینا ڈیڑھ ارب مسلمانوں کے یہی احساسات ہیں اور وہ ان المیوں کو انجام دینے والوں اور ذمہ داروں سے بیزار اور متنفر ہیں۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ اگر آج کے یہ رنج و الم بہتر اور زیادہ محفوظ مستقبل کی تعمیر کی بنیاد نہ بنیں تو ان کی حیثییت تلخ و بے ثمر یادوں تک محدود ہوکر رہ جائے گی۔ یہ میرا نظریہ ہے کہ صرف آپ نوجوان ہی آج کے ناموافق تغیرات سے سبق لیکر مستقبل کی تعمیر کی نئی راہیں تلاش کرنے اور اس انحرافی پیش قدمی
کو روکنے پر قادر ہوں گے جس نے مغرب کو آج اس مقام پر پہنچا دیا ہے۔
یہ صحیح ہے کہ دہشت گردی آج ہمارا اور آپ کا مشترکہ درد ہے۔ لیکن آپ کو یہ معلوم ہونا چاہئے کہ جس بد امنی اور اضطراب کا سامنا آپ نے حالیہ سانحے میں کیا، اور اس رنج و الم میں جسے عراق، یمن، شام اور افغانستان کے عوام برسوں سے جھیل رہے ہیں، دو بنیادی فرق پائے جاتے ہیں۔ ایک تو یہ کہ عالم اسلام حدود کے اعتبار سے کئی گنا زیادہ وسیع علاقے میں، اس سے کئی گنا زیادہ حجم کے ساتھ اور بہت زیادہ طولانی مدت کے دوران تشدد اور دہشت کی بھینٹ چڑھتا رہا ہے۔ دوسرے یہ کہ بد قسمتی سے اس تشدد کی ہمیشہ بعض بڑی طاقتوں کی طرف سے گوناگوں روشوں سے اور بہت موثر انداز میں حمایت کی جاتی رہی ہے۔ آج شاید ہی کوئی شخص ہو جسے القاعدہ، طالبان اور اس منحوس سلسلے کی کڑیوں کی تشکیل، انھیں تقویت پہنچانے اور اسلحہ فراہم کرنے میں ریاستہائے متحدہ امریکا کے کردار کا علم نہ ہو۔ اس براہ راست پشت پناہی کے ساتھ ساتھ، تکفیری دہشت گردی کے جانے پہچانے اور اعلانیہ حامی پسماندہ ترین سیاسی نظام رکھنے کے باوجود، ہمیشہ مغرب کے اتحادیوں کی صف میں شامل رہے ہیں، جبکہ علاقے میں پنپتی جمہوریت سے نکلنے والے روشن ترین اور پیشرفتہ ترین نظریات کی بے رحمی سے سرکوبی کی گئی ہے۔ عالم اسلام میں بیداری کی تحریک کے ساتھ مغرب کا دوہرا رویہ مغربی پالیسیوں کے تضاد کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
اس